4 اپریل، 2026، 9:57 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

پینٹاگون میں بحران: سینئر جنرلز کی برطرفیوں سے امریکی فوج میں ہلچل

پینٹاگون میں بحران: سینئر جنرلز کی برطرفیوں سے امریکی فوج میں ہلچل

امریکی وزارت جنگ میں ایران کے خلاف ناکامی کے بعد سینئر فوجی حکام کی برطرفیوں سے فوجی ادارے میں بحران پیدا ہوگیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک؛ امریکہ میں ایران کے خلاف حالیہ ناکامیوں کے بعد وزارت جنگ میں برطرفیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ پینٹاگون کے اندرونی ذرائع کے مطابق وزیر جنگ پٹ ہیگسٹ نے فوری حکم دے کر امریکی زمینی فوج کے سربراہ جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا۔ اس اقدام کے بعد امریکی نیوی اور ایئر فورس کے کلیدی کمانڈروں سمیت 12 سے زائد سینئر جنرلز بھی ہٹا دیے گئے ہیں۔ یہ تمام برطرفیاں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں کی گئی ہیں۔

اس سلسلے میں جنرل ویلیئم گرین جونیئر اور جنرل ڈیوڈ ہوڈن جیسے اہم فوجی اہلکار شامل ہیں۔ ان کی جگہ جنرل کرسٹوفر لانوو جیسے قریبی ساتھی کو عارضی طور پر تعینات کیا گیا ہے، جس سے فوجی قیادت کو یکجان کرنے کی کوشش نظر آرہی ہے۔ یہ برطرفیاں امریکی فوج کی اندرونی بے یقینی اور ایران کے مقابلے میں اسٹریٹجک الجھن کی عکاسی کرتی ہیں۔ برطرف شدہ کمانڈروں کی جگہ نئے عارضی کمانڈرز تعینات کرنے سے لگتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف جنگ کے بحران پر قابو پانے اور مسلسل ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔

برطرفیوں کے پس پردہ محرکات

ماہرین کے مطابق پینٹاگون میں اچانک برطرفیوں کی اصل وجہ امریکی فوجی حقیقت پسندی اور وائٹ ہاؤس کی جارحانہ منصوبہ بندی کے درمیان گہرا خلا ہے۔ جنرل رینڈی جارج، جنہیں پیچیدہ آپریشنز کی قیادت اور فوجیوں کی جان کی حفاظت کے لیے جانے جاتے تھے، اپنے محتاط اور درست فوجی انداز کی وجہ سے پٹ ہیگسٹ کے لیے غیر مطلوب شخصیت بن گئے۔ ان کی اچانک برطرفی نے واضح کردیا کہ پینٹاگون کی نئی حکمت عملی میں، کمانڈروں کا پیشہ ورانہ ریکارڈ ایران کے خلاف بغیر سوچے سمجھے جارحانہ منصوبوں کے نفاذ کے مقابلے میں کم اہمیت رکھتا ہے۔ واشنگٹن اب ہر اس آواز کو ختم کررہا ہے جو نئی مہم جوئیوں میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

اندرونی فوجی ذرائع سے حاصل اطلاعات کے مطابق، اصل تنازعہ زمین میں خصوصی فورسز (ڈیلٹا فورس) کے ایران میں داخلے کے خطرناک منصوبے کے خلاف کھلی مخالفت تھی۔ سینئر جنرلز، بشمول رینڈی جارج نے ایران کی ناقابل نفوذ دفاعی طاقت کے تجزیے کی بنیاد پر اس آپریشن کی مخالفت کی اور اسے امریکی فوج کے لیے گرداب قرار دیا۔

اس مزاحمت نے پٹ ہیگسٹ اور ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید ناراض کردیا کیونکہ وہ ایسے کمانڈروں کے خواہاں ہیں جو حتیٰ کہ شکست کے امکان کے باوجود سیاسی ہدایات کو فوجی عقل اور فوجیوں کی حفاظت پر ترجیح دیں۔

یہ صفائی صرف ایک شخص کی برطرفی تک محدود نہیں۔ میجر جنرل ہوڈن، میجر جنرل گرین جونیئر اور نیوی و ایئر فورس کے دیگر اعلی کمانڈروں کی برطرفی واضح پیغام ہے کہ واشنگٹن اپنے اسٹریٹجک جنرلز کو ہٹا کر وفادار اور مطیع اہلکار تعینات کر رہا ہے۔ جنرل کرسٹوفر لانوو کی فوری تعیناتی، جو پٹ ہیگسٹ کے سابقہ معاون رہے ہیں، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب کمانڈروں کے انتخاب میں فوجی مہارت نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس کی جارحانہ پالیسی کے لیے ذاتی وفاداری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

پیشہ ورانہ صلاحیت پر سیاسی اطاعت کو ترجیح

حالیہ تبدیلیاں پینٹاگون کے اعلیٰ سطح پر محض عام تقرریاں نہیں بلکہ امریکی فوجی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ جنرل کرسٹوفر لانوو کی تعیناتی، جو سابقہ معاون رہ چکے ہیں، اس بات کی تصدیق ہے کہ اب فوجی مہارت کی بجائے سیاسی وفاداری کو فوقیت دی جا رہی ہے۔

اس پیغام کو امریکی فوج کے تمام افسران تک پہنچا دیا گیا ہے کہ واشنگٹن کی جنگی کمان کی جگہ اب کوئی بھی اختلاف رائے یا حقیقت پسندانہ تجزیہ برداشت نہیں کرتا، بلکہ صرف وہی فیصلے منظور ہوں گے جو ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وفادار ٹیم کے نظریات کے مطابق ہوں۔

ماہرین کے مطابق یہ بڑے پیمانے پر صفائی امریکی فوج کی روایتی قیادت اور فوجی مہارت کے کلچر کی تباہی کے مترادف ہے۔ جب سینئر جنرلز، جو ایران پر جارحانہ حملے کے خطرناک اور ناقابل واپسی نتائج کے بارے میں خبردار کرتے ہیں، برطرف کیے جاتے ہیں، تو پینٹاگون میں سچ بولنے کی ہمت ختم ہوجاتی ہے۔

اہم فوجی رہنماؤں کی بیک وقت برطرفی ایک پیشہ ورانہ صفائی ہے، جس کا مقصد درمیانے درجے کے افسران میں خوف پیدا کرنا اور انہیں خاموش کر دینا ہے۔ اس اقدام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فوج کو ایک اطاعت گزار آلہ بنانے کی جلد بازی میں کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہ وہی جارحانہ اقدامات بغیر کسی مزاحمت کے انجام دے سکے جو پہلے سینئر کمانڈروں کی مخالفت کی وجہ سے روکے گئے تھے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی یہ بڑے پیمانے پر تبدیلیاں واشنگٹن کی حکمت عملی میں خوف کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماہر کمانڈروں کی جگہ ‘جی حضور’ کہنے والے اہلکاروں کی تعیناتی اس بات کا بالواسطہ اعتراف ہے کہ موجودہ امریکی فوج ایران سے نمٹنے کے قابل نہیں اور اس بند گلی سے نکلنے کے لیے محض اپنے فوجی حکام کو تبدیل کررہا ہے۔

ایران کی دفاعی برتری اور امریکی فوج میں انتشار

پینٹاگون میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں نے امریکی فوج کے درمیانے اور نچلے افسران میں گہری بے اعتمادی پیدا کر دی ہے۔ جنرل رینڈی جارج جیسے تجربہ کار کمانڈروں کی برطرفی، جو فوجی اہلکاروں کی حفاظت اور حقیقت پسندانہ فیصلوں کے لیے مشہور تھے، نے سینئر افسران اور میدان جنگ میں موجود فوجیوں میں حوصلے کی کمی اور مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایران کے خلاف امریکی محاذ میں ناکامی اب داخلی بحران کے ساتھ جڑ گئی ہے، جو مستقبل کے حساس فوجی آپریشنز میں فیصلہ سازی کی صلاحیت کو مفلوج کرسکتی ہے۔ امریکی فوجی اب ایسے احکامات کے سامنے ہیں جو فوجی حکمت عملی کے بجائے سیاسی دفاتر سے جاری کیے جا رہے ہیں؛ ایسے احکامات جن کی ممکنہ تباہ کن نتائج کے ذمہ داری سینئر جنرلز قبول کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر بھی یہ بڑے پیمانے پر برطرفیاں واشنگٹن کی کمزوری اور انتشار کا پیغام دنیا بھر کے اتحادیوں اور حریفوں تک پہنچاتی ہیں۔ جب ایک سپر پاور کی فوج اپنے اعلیٰ کمانڈروں کو عملی منصوبوں پر اختلاف کی وجہ سے ہٹا دیتی ہے، تو یہ داخلی یکجہتی کے ٹوٹنے اور طاقت کے مرکز میں کمزوری کی علامت ہے۔

امریکی علاقائی اتحادی اب اس بارے میں شدید شک و تردد میں ہیں کہ کیا وہ فوج جس کے کمانڈروں کو فوجی عقل کے سبب برطرف کیا جاتا ہے، ان کے لیے محفوظ سہارا فراہم کر سکتی ہے؟ یہ اسٹریٹجک الجھن عملی طور پر امریکی بازدارندگی کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ پینٹاگون کی جنگی مشین اندرونی طور پر غیر معمولی انتشار اور خستگی کا شکار ہے۔

اس کے برعکس، یہ صورتحال ایران کی حقیقی میدان جنگ میں دفاعی طاقت اور مضبوطی کی تصدیق کرتی ہے۔ اس برطرفیوں کے پیچھے حقیقت یہ ہے کہ ایران کی دفاعی صلاحیت اتنی مضبوط اور ناقابل رسائی ہو گئی ہے کہ امریکی اعلیٰ فوجی حکام نے زمینی جنگ میں داخل ہونا اپنی عملی طاقت سے باہر سمجھا اور اس کے نتائج کو اپنے کیریئر کی قیمت دے کر برداشت کیا۔

لہٰذا، واشنگٹن میں جاری یہ تبدیلیاں ایران کے لیے ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی ہیں؛ کیونکہ دشمن اس سے پہلے کہ زمینی محاذ پر قدم رکھے، اپنی ہی کمانڈ کی عمارت میں انتشار اور خوف کے باعث زنجیروں میں پھنس گیا ہے۔

News ID 1938753

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha